رپورٹ : جرنلسٹ رائٹس فاونڈیشن آف پاکستان
نئی دہلی : بھارت نے نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی انتہاپسند خاتون رہنما نوپور شرما کے خلاف کارروائی کے بجائے سیکیورٹی فراہم کردی ہے۔
شرما کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں جس کی وجہ سے دہلی پولیس نے انہیں سیکیورٹی فراہم کی ہے، پولیس اہلکار 24 گھنٹے ان کے ساتھ موجود رہیں گے۔
بی جے پی کی ترجمان ملعونہ نوپور شرما نے ٹوئٹر پر خود کو ملنے والی دھمکیوں پر سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، نوپور شرما کا کہنا تھا انہیں اور ان کے خاندان کو سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
نوپور شرما نے پولیس کو ان اکائونٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں جن سے انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں، دہلی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ نے ان افراد کی شناخت کیلئے کارروائی شروع کردی ہے۔ادھر ملعونہ نوپور شرما کے بیان پر بھارت بھر میں حالات کشیدہ ہیں اور ان کی گرفتاری کیلئے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی مسلم رہنما اسد الدین اویسی نے نوپورشرما کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بی جے پی رہنما کو صرف معطل کرنا ناکافی ہے، انہیں فوری گرفتار کرکے کارروائی ہونی چاہئے۔
نریندر مودی صرف مسلمانوں کی ہی نہیں ہر بھارتی شہری کی توہین کررہے ہیں۔بھارت کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کا بیان بھی سامنے آگیا، انہوں نے کہا کہ ہم تمام مذاہب کیلئے احترام اور برداشت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ادھر توہین رسالت کے واقعے پر دنیا بھر میں بھارت کے خلاف غم و غسہ دیکھا جارہا ہے، عرب ممالک میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ گئی، ٹوئٹر پر بائیکاٹ انڈین پراڈکٹس کے ہیش ٹیگ کیساتھ مہم جاری ہے۔
کویت میں ایک سپر اسٹور سے بھارتی مصنوعات ہٹادی گئیں۔ کویت سٹی میں واقع سپر اسٹور چین کے سی ای او نصر المطہری نے کہا ہم پیغمبرؐ کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔
اسٹور سے بھارتی چاول، چائے کی پتی سمیت دیگر مصنوعات کو ہٹادیا ہے۔

0 Comments